Sunday, April 24, 2016

poetry

خاموش پلکوں سے جب آنسو بکھر جاتے ھیں،
آپ کیا جانیں آپ کتنے یاد آتے ھیں،
ھم آج بھی اسی موڑ پر کھڑے ھیں فراز،
جہاں آپ نے کہا تھا ٹھہرو ھم ابھں آتے ھیں

Saturday, April 23, 2016

sad poetry

میں دردوں کو پاس بٹھا کر ہی سووں۔😢
جو تجھے لگتا بارش ہے
وہ میں ہو جو رووں۔😢
میں دردوں کو پاس بٹھا کر ہی سووں۔
خوشیوں سے ملنا بھول گئے۔۔
تم اتنا کیوں ہم سے دور گئے۔
کوئ کرن اک دن آئے گی۔
تم تک ہم کو لے کے جائے گی۔
میں دردوں کو پاس بٹھا کر ہی سووں۔😢
پنکھ اگر ہوتے اڑ کے چلا میں آتا۔
رکتا نہ میں ایک پل۔۔
قید یہ کیسی خدا۔۔
سانس بھی روٹھی ہے سینے میں آج کل۔😢
میں دردوں کو پاس بٹھا کر ہی سووں